Sunday, 1 January 2017
Tuesday, 18 October 2016
طلاق لینے کاوظیفہ
English:
If a woman wants to get divorce by husband and husband is not agree to give divorce then she should recite Wazifa to Get Divorce by Husband;
Recite Surah mumtahina 11 times for 11 days, in shaa Allah husband will give divorce without creating any problem.
Ager koi aurat apney husband sey talaq leyna chahti ho aur husband talaq na deyta ho tu Talaq ka Wazifa karen:
Surah Mumtahina ko 11 bar perhen 11 din tak , in shaa Allah husband khud talaq deydeyga bagher kisi lari jhagrey k.
If a woman wants to get divorce by husband and husband is not agree to give divorce then she should recite Wazifa to Get Divorce by Husband;
Recite Surah mumtahina 11 times for 11 days, in shaa Allah husband will give divorce without creating any problem.
اردو
اگر کوئ عورت اپنے خاوند سے طلاق لینا چاہتی ھو اور طلاق نہ دیتا ھو توطلاق کا وظیفہ کریں۔ سورۃ ممتحنہ کو ۱۱ بار۱۱ دن تک پڑھیں۔ خاوند بغیر لڑائ جھگڑے کےطلاق دے دے گا۔
Ager koi aurat apney husband sey talaq leyna chahti ho aur husband talaq na deyta ho tu Talaq ka Wazifa karen:
Surah Mumtahina ko 11 bar perhen 11 din tak , in shaa Allah husband khud talaq deydeyga bagher kisi lari jhagrey k.
Wednesday, 4 May 2016
Thursday, 1 May 2014
شوگر‘ بلڈپریشر‘ ٹینشن اور جوڑوں کا درد ختم
بے شمار مریضوں نے آزمایا جو شخص بھی توجہ سے چند ماہ‘ چند ہفتے اور چند دن استعمال کرتا ہے‘ اس کو ضرور انشاء اللہ فائدہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹری دوائی فوراً نہ چھوڑیں آہستہ آہستہ چھوڑیں‘ بس اعتماد شرط ہے۔ مایوس سے مایوس مریض کو ایسی شفا ملی کہ دیکھنے اور سننے والے حیران۔ سو نہیں ہزاروں نہیں بے شمار کا نہایت آزمودہ ہے۔ یہ دو فارمولے ہیں‘ پنساری سے دوائی سہولت سے مل جاتی ہے۔
پہلا فارمولہ: ریوند چینی پچاس گرام‘ میٹھا سوڈا پچاس گرام‘ سونٹھ پچاس گرام کوٹ پیس کر ہوا بند مرتبان میں محفوظ رکھیں اگر زیادہ عرصہ رکھنے سے دوائی کی حالت تبدیل ہو تو خراب نہ سمجھیں پانچ سال تک خراب نہیں ہوتی۔ (کیڑا لگا نہ ہو)
پہلا فارمولہ: ریوند چینی پچاس گرام‘ میٹھا سوڈا پچاس گرام‘ سونٹھ پچاس گرام کوٹ پیس کر ہوا بند مرتبان میں محفوظ رکھیں اگر زیادہ عرصہ رکھنے سے دوائی کی حالت تبدیل ہو تو خراب نہ سمجھیں پانچ سال تک خراب نہیں ہوتی۔ (کیڑا لگا نہ ہو)
دوسرا فارمولہ: عناب آدھا کلو‘ سونف آدھا کلو‘ پودینہ خشک صاف کیا ہوا آدھا کلو‘ گوند کیکر آدھا کلو کوٹ پیس کر رات کو ایک لیٹر نیم گرم پانی میں پانچ بڑے چمچہ بھگودیں۔ صبح مل چھان کر ساری محفوظ رکھیں۔ سارا دن چار‘ پانچ یا تین بار یہ پانی مستقل پئیں اور سارا ختم کریں۔کھانے سے پہلے یا بعد میں پینے کی شرط نہیں ہے۔ ہر بار آدھا چائے والا چمچ پہلے فارمولے کا گلاس میں حل کریں یا منہ میں ڈال کر اوپر سے دوسرا فارمولہ پی لیں۔ موسم سرما میں نیم گرم کرکے پئیں۔
پیشکش: بندہ حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی
ایڈیٹر ماہنامہ عبقری لاہور
پیشکش: بندہ حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی
ایڈیٹر ماہنامہ عبقری لاہور
Friday, 18 April 2014
قد بڑھانے کا آزمودہ روحانی عم
آج کل سب سے اہم مسئلہ ہے کہ قد کا نہ بڑھنا۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس مسئلے کے سبب لڑکیوں اور لڑکوںکے رشتے جلد طے نہیں ہو پاتے۔ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کا مسئلہ تھا۔ اس میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ گلے کے غدود کا بڑھ جانا۔ پہلے ان غدود کا علاج کیا جائے اور کھٹی، تیز مرچ و مصالحہ و چٹ پٹی اور تلی ہوئی چیزوں سے اجتناب کیا جائے۔ آج سے کچھ سال پہلے 2004ءمیں، میں نے میٹرک کا امتحان دیا سب لڑکوں کا قد مجھ سے بڑا تھا اور وہ مجھ پر آوازیں کستے تھے۔ میں نے دوسرے (ہومیوپیتھی) علاج کروائے، اس سے کچھ فرق تو پڑا مگر اتنا جلد اور تیز اثر نہیں پڑا جتنا کہ میں نے کلام پاک کے اس وظیفے سے حاصل کیا۔ میٹرک کے امتحان کے بعد فراغت تھی۔ ایک دن اخبار کے میگزین میں سے قد بڑھانے کا عمل (نسخہ) پایا۔ میں نے یقین کامل اور توکل علی اللہ کر کے شروع کر دیا۔ قارئین! یقین کریں کہ میرا قد تقریباً 6,5 انچ کے قریب 6 ماہ کے اندر اندر بڑھ گیا۔ پھر میں نے اور بھی مزید (مدت) دنوں تک جاری رکھا اور اب تک جاری ہے۔ اب میرا قد تقریباً پانچ فٹ اور چھ انچ کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ اس عمل کی مدت پابندی کے ساتھ چھ ماہ ہے۔ یقین کامل شرط ہے۔ نماز اور روزہ کی پابندی لازم ہے۔ گناہوں اور جھوٹ سے بچنا اور سچ بولنا شامل ہے۔ یہ میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ (اجزائ) آدھا گلاس پانی۔ پہلے درود ابراہیمی ایک بار پڑھیں۔ اس کے بعد پھر سورة یوسف کی پہلی آیت ( تین مرتبہ) الٓرo تِلکَ اٰیٰتُ الکِتٰبِ المُبِینِ اَلرَّحِیمُ اَلرَّحِیمُ اَلرَّحِیمُ یَااَللّٰہُ یَامُرِیدُ ( لکھی ہوئی ترتیب سے پڑھیں)۔اس کے بعد ایک بار درود ابراہیمی پڑھیں۔گلاس پر پھونک مار کر تصوراتی طور پر اپنے قد کو بڑھتا ہوا خیال کر کے پانی بیٹھ کر تین سانسوں میں پی لیں۔ یہ عمل ایک مرتبہ صبح اور ایک مرتبہ شام کریں۔ یاد رہے کہ مستقل مزاجی لازمی ہے۔ اگر کوئی ناغہ آئے تو (اگلے دن) مزید ایک دن پڑھیں۔ اللہ کے ہاں دیر تو ہو سکتی ہے اندھیر نہیں۔ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں کہ شیطان بنے ہوئے کاموں کو بگاڑنے میں دیر نہیں لگاتا۔( سب قارئین سے دعاﺅں کی درخواست ہے )۔ گمشدہ، لاپتہ بچہ یا مرد کی بازیابی کیلئے تحریر سو فیصد سچی ہے۔ من گھڑت کہانی نہیں۔میرے گھر گوالہ دودھ دینے آتا ہے۔ کافی اچھا اور خوش مزاج انسان ہے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ کافی پریشان تھا اور مجھ سے معمول کے مطابق بات نہیں کی۔ اس کے چہرے کے تاثرات کو میں نے بھانپ لیا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا وجہ ہے آپ پریشان نظر آ رہے ہیں۔ اس نے مجھے بتانے سے انکار کیا۔ میرے زیادہ اصرار پر اس نے بتایا کہ میرا بھتیجا گم ہو گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا ضرور کسی نے اغوا کیا ہوگا۔ پھر میں نے اسے کچھ وظائف بتائے مگر ایک مہینہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا، اس کے بھتیجے کا پتہ نہ چل سکا۔ پھر میں نے اپنی مطالعاتی کتب سے ایک اور وظیفہ بتایا اور کچھ دن کی حد مقرر کر کے کرنے کو کہا۔ بس پھر کیا تھا ادھر اسے وظیفہ شروع کیے ایک ہفتہ ہی گزرا ہوگا اس نے مجھے بتایا کہ اس کا بھتیجا مل گیا ہے اور اسے خاندان کے کچھ افراد اغوا کر کے صوبہ بلوچستان لے گئے تھے۔ اس سے پہلے وہ کہتا تھا کہ لڑکا بھاگ گیا ہے۔ مگر جب صورتحال سامنے آئی تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا۔ میں نے سوچا اب یہ وظیفہ عبقری کے ذریعے پوری دنیا میں دوسرے بہن بھائیوں تک پہنچاتے ہیں۔ جس طرح ہر کام کے لیے کچھ شرائط ہوتی ہیں اس وظیفے کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں۔ و ہ ورد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ہے: مُعِیدُ اس نام کو یَامُعِیدُ کا وظیفہ بنا کر روزانہ 70 مرتبہ پڑھیں اور اللہ سے دعا مانگیں (شرائط) یہ وظیفہ اکثر اور آزمودہ ہے۔ چلتے پھرتے درود پاک پڑھیں ۔ نماز پنجگانہ وقت پابندی کے ساتھ پڑھیں اور دعا کریں۔ رمضان شریف کے روزے مت چھوڑیں۔ دوسرا یہ کہ کچا پیاز (سلاد میں ہو کسی بھی صورت میں کچا ہو) نہ کھایا جائے۔ اسی طرح کچا لہسن اور وہ چیزیں جو منہ میں بدبو پیدا کرتی ہیں‘ نہ کھائیں۔ اس عمل کی کوئی خاص مدت نہیں ہے مگر اپنی اور دل کی تسلی کے لیے 21 دن یا چالیس دن کا حساب کر لیں۔ یقین کامل شرط ہے۔ بے یقینی اور بدگمانی سے کیے گئے عمل کی تعداد اگرچہ لاکھوں میں بھی ہو تو فائدہ صفر کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ امتحان میں آسانی اور کامیابی کیلئے:ہر انسان کی خواہش ہے کہ وہ تھوڑا وقت استعمال کرے اور زیادہ فائدہ اٹھائے۔ مگر کامیابی کے لیے محنت اور استقلالی جدوجہد لازم ہے۔پھر اس محنت کا رنگ ایک اعلیٰ قسم کے پھل اور کامیابی کی صورت میں آتا ہے۔ جتنے بھی طلبا و طالبات ہیں جس جس شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے پاس مقابلے کا رجحان زیادہ ہو گیا ہے۔ آج کل کے اس مشینری دور نے جہاں مسائل کھڑے کیے ہیں وہاں طلبا و طالبات کی دشواری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مانا کہ ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔ مگر ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح ہو تو تب نا۔ سڑک، روڈ پر بھاگتی شور مچاتی ہوئی گاڑیوں، بسوں نے دماغی سکون کو برباد کر دیا ہے۔ پہلے سبق آدھے گھنٹے میں یاد اور تیار ہو جاتا تھا مگر اب تو ڈھائی گھنٹے بھی گزر جائیں تو غنیمت کا کوئی موقع ہاتھ ا ٓتا ہے۔ جس میں سبق یاد ہو جائے۔ میں نے اس عمل کو آزمایا ہے۔اس عمل میں شرائط یہ ہیں کہ نماز کی پابندی، روزہ کی پابندی، گناہوں سے بچنا، (سب سے زیادہ نظروں کی حفاظت ضروری ہے) دوسروں کے فائدہ کے بارے میں سوچنا۔ عمل کا دورانیہ: عام آدمی کے لیے15 سے 20 منٹ اور حفاظ اور خواص کیلئے 7 سے 10 منٹ عمل کا وقت: عشاءکی نماز کے بعد، اپنے بستر پر لیٹ کر یا بیٹھ کر۔ شروع: امتحانوں سے کم از کم 40 یا 50 دن پہلے۔ بہتر یہ ہے کہ 55,50 دن پہلے شروع کیا جائے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں۔ اختتام: جب بھی مدت پوری ہو جائے 55 دن کی، یا 50 دن کی 40 دن، 40 دن سے کم نہیں زیادہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ عمل کی مزید شرطیں: دورد شریف کی کثرت‘ سوتے وقت منہ قبلہ رخ ہو۔ کتابوں کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا اور زبان کا فحش کلام سے باز رکھنا وغیرہ۔ عمل کے جزو: (1) درود شریف (2) سورة الکوثر (3)درودشریف۔ عمل کا طریقہ: کوشش کریں کہ عشاءکی نماز سے پہلے سارے کاموں سے فارغ ہو جائیں اس عمل کے بعد کوئی کام نہیں کرنا ہے۔ صرف سونا ہے اور کوشش کے ساتھ فجر کے وقت اٹھنا ہے اپنے معمولات جو نماز کے بعد کرنے ہیں، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک پڑھتے رہنا ہے چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے۔ (1) پہلے ایصال ثواب کرے یعنی ایک مرتبہ درود شریف سورة فاتحہ ایک مرتبہ سورة اخلاص تین مرتبہ پھر ایک مرتبہ درودشریف۔ (2) گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پہلے پڑھ پھر 41 مرتبہ سورة الکوثر پڑھے۔(3) پھر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھے اورقبلے کی جانب رخ کر کے اللہ سے دعا مانگنے کے بعد اپنے اوپر پھونک مارکر سو جائیں۔ اس کے علاوہ جس مضمون میں مشکل ہو اس کا تصور کر کے عمل کریں اور سو جائیں انشاءاللہ تعالیٰ امتحان میں آسانی ہوگی اور تیاری کے مطابق سوالات ہوں گے۔ یقین کامل شرط ہے یہ میرا آزمودہ ہے۔
Thursday, 17 April 2014
دار چینی
عر بی قر فہ سندھی دال چینی فارسی دارچینی انگریزی Cinnamon Bark دار چینی جو عرف عام میں دال چینی کے نام سے مشہور ہے یہ ایک درخت کی خوشبو دار چھال ہے ۔ جو ہر گھر میں ،گرم مصالحو ں میں استعمال ہو تی ہے ۔ اسے پیس کر سالن کو خو ش ذائقہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا تاہے ۔ زمانہ قدیم سے دار چینی کا استعمال دوائیو ں میں ہو تا آیا ہے۔ حکیم جا لینو س ، قدیم ہندی اطباءاور اسلامی اطبا ءنے دار چینی کا ذکرکیا ہے ۔ دارچینی کا رنگ بھو را سیا ہی ہو تا ہے ۔ اس کا ذائقہ شیریں تیز اور نہا یت خو ش گوار ہو تا ہے ۔ اس کا مزاج گرم و خشک نمبر3 بیان کیا گیا ہے ۔ اس کی قوت پندرہ سال تک قائم رہتی ہے ۔ اس کی مقدار خوراک دو ماشہ سے چار ما شہ تک ہے ۔ بعض حالات میں اس کی خوراک کی مقدار ایک تولہ یو میہ بھی ہو سکتی ہے ۔ دار چینی کے فوائد (1)دارچینی ایک بہترین خوشبوا دار چیز ہے جو کہ دافع تعفن بھی ہے ( 2)اس کی تا ثیر قابض ہو تی ہے (3)سدہ کھو لتی ہے (4) محفل ریا ح اور ارواح کی محافظ ہے ۔ اس لیے اس کو معجو نو ں اور مفر حات میں استعمال کیا جاتاہے(5) کھانسی اوردمہ میں دارچینی کو ہم وزن شہدمیں ملا کر چٹانے سے فا ئدہ ہو تاہے (6 )اگر سر دی کی وجہ سے با ربا ر پیشا ب آتا ہو تو دو ماشہ سفو ف دا رچینی ہمرا ہ دودھ پلا نا مفید ہو تا ہے ۔ (7 )دار چینی کا تیل سرد بیما ریو ں اور سرد دردوں کے لیے مفید ہوتا ہے(8 )دار چینی کے تیل کو تقویت باہ کے لیے بیرونی طور پر ذکرپر طلا ءکر نا مفید ہو تاہے (9 )دانتو ں اور مسوڑھو ں کی تکالیف میں روغن دار چینی بہت مفید ہو تاہے (10) ر و غن دار چینی سر کا تنقیہ کر تاہے کیونکہ یہ اپنی لطا فت اور قوت حرارت کی وجہ سے جلد نفوذ کر جانے کے باعث دما غ کی رطوبت کو جذب کر تاہے ۔ اس کے علا وہ سینہ کی رطوبت کو بھی صاف کرتاہے جو اس کی طرف جذب ہو کر آتی ہے۔ (11)روغن دار چینی ، درد گر دہ و درد رحم کو بھی نفع دیتا ہے ۔ ایسی صورت میں پانچ قطرے روغن دار چینی دودھ کے ساتھ پینا مفید ہے اس کو بیرونی طو ر پر درد گر دہ کی صورت میں پشت پر اور درد رحم کی صورت نا ف کے نیچے لگا نے سے فائدہ ہوتا ہے۔(12)آنکھو ں کے پھولے میں روغن دار چینی کھا نے اور لگانے سے فائدہ ہو تا ہے ۔ کھانے کی خوراک :پانچ قطرے روغن دار چینی دودھ کے ساتھ پینا مفید ہے اس کو بیرونی طور پر درد گر دہ کی صورت میں پشت پر اوردرد رحم کی صورت میں نا ف کے نیچے لگانے سے فائدہ ہو تاہے ۔ (13)کثرت طمث اور سیلان الرحم میں دار چینی چھ ماشہ ،ثعلب مصری ایک تولہ ،صدف خالص دو تولہ اور چینی ان تمام باقی ماندہ ادویہ کے ہم وزن لے کر سفو ف بنائیں ۔ تین ما شہ سفوف صبح و شام ہمرا ہ پانی استعمال کرنا مفید ہو تا ہے ۔ (14)سیلا ن الرحم کی مر ض میںدار چینی ایک تولہ ، تال مکھانہ ایک تولہ ، کشتہ بیضہ مرغ ایک تولہ اور بتاشے تین تولہ کو باریک کو ٹ کر سفو ف بنا کر تین ما شہ ہمراہ گائے کے دودھ سے صبح و شام استعمال کرنا بے حد مفید ہے ۔ (15) دار چینی کا جو شاندہ جو ہر قسم کی کھا نسی کے لیے مفید ہے ۔ دار چینی چار ما شہ ، بہی دانہ شیریں چار ما شہ، اصل السوس ایک تولہ ، زوفا ایک تولہ ، انجیر زرد تین عدد ،کو کنا ر دو عدد او رکو زہ مصری ایک تولہ ، ان تمام ادویہ کو آدھ سیر پانی میں جو ش دیں پھر مل چھان کر شیشی میں محفوظ کر لیں ۔ دن میں تین دفعہ صبح ، دوپہر اور شام پانچ تولہ کی مقدار میں نیم گرم کر کے پلانے سے فائدہ ہو تاہے ۔ (16)پھلبہری اور بر ص ، بہق کے امر اض میں اسے رگڑ کر طلا ءکر نے سے نشانات درست ہو جا تے ہیں ۔ (17) زہریلے جانوروں کے کا ٹے پر درد اور سو ز ش کی تسکین کے لیے درد پر پیس کر لیپ کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے ۔(18)بوا سیری مسوں والی جگہ پر دار چینی رگڑ کر لیپ کر نا بہت فائدہ دیتا ہے ۔ (19)دار چینی اور ہلیلہ کا بلی ہم وزن رگڑ کر سفوف بنا لیںاور تین ما شہ صبح و شام استعمال کرنے سے استسقاءکو بے حد مفید ہو تاہے ۔ (20)نسیان کو دور کرنے کے لیے دار چینی کا سفوف دو دو ما شے صبح و شام نیم گر م دودھ کے سا تھ استعمال کرنا چاہیے ، مجرب ہے ۔ اس عمل سے نہ صرف نسیا ن ٹھیک ہو گا بلکہ باہ کو تقویت بھی ملے گی۔(21)کثرت پیشاب میں دا ر چینی اور کند رہم وزن باریک پیس کر دو ماشہ سفوف پانی کے ہمراہ صبح و شام استعمال کرنا بے حد مفید ہے ۔ (22)حافظہ کی تقویت اور نسیان کی مر ض کو دورکرنے کے لیے دار چینی دو تولہ، تج ایک تولہ اور ہلیلہ کابلی ایک تولہ بنات سفید(چینی)چار تولے پیس کر سفو ف بنائیں اور ایک ما شہ سے تین ما شہ تک صبح و شام ہمر اہ پانی استعمال کرنا فائدہ مند ہو تا ہے ۔(23)منہ کی بد بو اور آواز کو درست کرنے کے لیے دار چینی ، تج ، دانہ الائچی خورد ، خولنجاں اور مصری ہم وزن پیس کر عرق گلا ب میں کھرل کر کے چنے کے برا بر گولیا ں بنائیں ۔ چار چار گھنٹے بعد ایک گولی منہ میں رکھ کر چو سنے سے شفا ہو تی ہے ۔ (24) نزلے اور زکام میں دا رچینی کا سفو ف ایک ایک ماشہ صبح و شام ہمر اہ پانی استعمال کرنا مفید ہے۔(25)تپ دق، سل ، سعال اطفا ل اور بد ہضمی کو دور کر نے کے لیے درج ذیل نسخے کا استعمال کر نا بے حد مفید و مجرب ہے۔ دار چینی چھ ما شہ ، الائچی خورد ایک تولہ ، فلفل دراز دو تولہ ، طباشیر کبوو چار تولے ، کو زہ مصری آٹھ تولے ، تمام ادویہ کو باریک پیس کر سفوف بنالیں ۔ ایک ما شہ سفوف ہمراہ نیلو فر دن میںتین بار استعمال کرائیں، بے حد مفید ہے ۔ (26)پلک پھڑکنے کی صورت میں دار
چینی کا سرمہ بنا کر سلائی سے آنکھ میں لگانا مفید ہے ۔
(عبدالرحیم خان، مالاکنڈ ایجنسی)
Wednesday, 16 April 2014
دیہاتی خاتون کا خاندانی تجربہ: کلونجی اور دورِ حاضر کی بیماریاں
| معیادی بخار میں کلونجی کے کرشمات رات کو ایک کپ تیز گرم پانی میں بھگو دیں۔ صبح سردائی کی طرح گھوٹ کر مریض کو پلا دیں۔ واضح رہے کہ اگر موسم سرما ہو تو یہ پانی نیم گرم کر لیں اور اگر موسم گرما ہو تو ویسے ہی پلا دیں۔ اس طرح کچھ دن استعمال کرنے سے مریض تندرست ہو جائے گا اور سب سے بڑی خوشی کی بات یہ ہے کہ مریض پھر کبھی اس مرض میں انشاءاللہ تعالیٰ مبتلا نہیں ہوگا۔ ایک صاحب ایسی حالت میں تشریف لائے کہ دن ڈھلتے ہی ان کو بخار اور لرزے کی کیفیت شروع ہو جاتی۔ تمام رات بخار میں تڑپتے رہتے صبح ہوتے ہی کچھ افاقہ ہو جاتا۔ دنیا کے کام کاج میں مشغول ہو جاتے لیکن دن ڈھلتے ہی وہی سابقہ تکلیف۔ جب انہیں یہ نسخہ استعمال کرایا گیا تو وہ بفضل تعالیٰ تندرست ہوگئے۔ ایک صاحب مرض کی حالت میں لائے گئے۔ ان کی تکلیف یہ بھی تھی کہ وہ دن میں ایک بار یا دو بار چلتے چلتے یا بیٹھے بیٹھے گر جاتے تھے اور دورہ پڑ جاتا تھا۔ اب تک تمام معالین نے اس مریض کو مرگی کی تکلیف بتائی۔ عاجز کے پاس جب علاج کے لئے لائے گئے تو بندہ نے یہی نسخہ مسلسل استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ دن میں تین بار استعمال کرایا گیا یعنی ہر دفعہ اجوائن اور کلونجی کی مذکورہ مقدار کو گھول کر موسم کے مطابق ٹھنڈا یا گرم کر کے پلایا گیا۔ بندہ کی تشخیص یہ تھی کہ مریض دراصل پرانے معیادی بخار کا شکار ہے۔ جب تک اندر سے یہ بخار نہیں نکلے گا اس وقت تک یہ دورے ختم نہیں ہو سکتے۔ یعنی یہی دوا مستقل استعمال ہوئی۔ تو واقعی مریض تندرست ہوگیا۔ جوڑوں کا درد اور کلونجی ایک نیم حکیم قسم کے آدمی عاجز کے پاس ملاقات کیلئے تشریل لائے۔ تعارف کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے آپ کی کئی کتابیں پڑھیں اور جس طرح آپ نے اپنی کتابوں میں کھلے دل سے عامتہ المسلمین کیلئے اپنے تجربات و مشاہدات کو بیان کیا ہے ۔ میں بھی آپ کو ایک ایسا نسخہ دینا چاہتا ہوں۔ جو اتنا مفید اور موثر رہے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ موصوف کہنے لگے کہ یہ نسخہ دراصل میں نے جن جن مریضوں کو استعمال کرایا ہے وہ تمام مریض بالکل تندرست ہو گئے ہیں۔ پھر کہنے لگے یہ نسخہ دراصل مجھے میاں چنوں کے قریب ایک دیہات کی ایک بوڑھی عورت سے ملا تھا بڑی بوڑھیوں کا اکسیری نسخہ میں نے ایک مریض کا علاج کیا تھا۔ علاج کے بعد مریض تندرست ہو گیاتو وہ بوڑھی ”جو کہ ایک دائیہ تھی۔“ مجھے یہ نسخہ بڑی تاکید سے دیا اور کہا کہ اس کو استعمال کرنے سے قبل سوا پانچ روپے کسی فقیر کو ضرور دے دینا اور کسی سے اس نسخہ کو چھپانا نہیں۔ موصوف حکیم صاحب کہنے لگے میں نے واقعی جس مریض کو یہ نسخہ استعمال کرایا اسے انتہائی مفید پایا۔ لیجئے قارئین وہ نسخہ آپ کی نظر کیا جاتا ہے۔ جو بلا کم و کاست ایک اکسیر لا جواب ہے۔ ھوالشافی: آک کی جڑ کا چھلکا خشک شدہ ایک پائو کلونجی ایک پائو، اجوائن ایک پائو، ان تمام ادوایات کو بالکل باریک پیس کر سفوف تیار کریں۔ استعمال : مقدار خوراک ایک چمچ سے آدھا چمچ دن میں تین یا چار مرتبہ بار چائے ، دودھ یا تازہ پانی کے ہمراہ کھانے سے قبل۔ | |
Tuesday, 15 April 2014
پانچ سال پرانے پھوڑے کا علاج لیموں سے
| پانچ سال پرانے پھوڑے کا علاج لیموں سے | |
پانچ سال پرانے پھوڑے کا علاج لیموں سے:میر ا اپنا تجربہ ہے۔مجھےایک پھوڑا نکلا تھا اس کا رنگ سبز تھا‘ مجھے خطرہ تھا کہ یہ جو کچھ عرصہ سے ٹھیک نہیں ہورہا کہیں کینسر نہ ہو۔ اللہ پاک سے دعا بھی مانگتا رہا‘ البتہ ایک کام کرتا رہا کہ لیموں کاٹ کر مسلسل چار پانچ ماہ تک اس پر ملتا رہا اور وہ ٹھیک ہوگیا۔
ناک بند ہو یا ہڈی بڑھی ہو:اوپلا لے کر اس کو آگ لگادیں‘ اس کی راکھ پر اک کا دودھ ڈالیں‘ پھر اس کو خشک کریں‘ پھر اک کے دودھ میں اسے تر کریں‘ تین مرتبہ ایسا کرنا ہے‘ وہ نسوار کی طرح ہوجائیگا۔ وہ ناک میں ڈالیں تو چھینکیں آئیں گی اور ناک کھل جائے گا۔ اس کے بہت فوائد ہیں۔ بواسیر کیلئے لاجواب علاج: گائے کا نیم گرم دودھ لیں‘ اس میں ایک لیموں نچوڑیں اور دودھ پھٹنے سے قبل فوراً ہی پی لیں‘ اس وقت مجھے خونی بواسیر تھی‘ اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ یہ نسخہ میں نے دس سال قبل استعمال کیا تھا اس کے بعد سے مجھے اب تک بواسیر نہیں ہوئی۔ قبض کا علاج : دیسی پودینے کا قہوہ میں بڑا عرصہ پیتا رہا ہوں یہ قبض توڑنے میں لاجواب ہے اور جب قبض ٹوٹے گی تو بواسیر خودبخود ختم ہوجائے گی۔ قوت باہ: بوہڑ کی ڈاڑھی کی چائے استعمال کرنے سے ٹھیک ٹھاک قوت پیدا ہوتی ہے‘ یہ میں نے بہت دفعہ آزمایا ہے۔ گوما بوٹی اور سانپ:گوما بوٹی کو اگر رگڑ کر دیں تو سانپ چاہے جتنا بھی زہریلا ہو اس کا زہریلا پن ختم ہوجائے گا۔ اس بوٹی کے متعلق ایک واقعہ میں نے بہت پرانی طب کی کتاب میں پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ ہندوستان کا ایک آدمی جنگل میں جارہا تھاکہ اس نے دیکھا کہ سانپ اور نیولا لڑرہے ہیں سانپ اس کو ڈس لیتا تو وہ ایک پودے کے پاس جاکر اسے چکھتا تو پھر تازہ دم ہوجاتا اور پھر لڑنے کیلئے آجاتا۔ لڑائی ختم ہوئی تو اس آدمی نے اس بوٹی کو اُکھیڑ لیا اور ساتھ لے گیا۔ راستے میں ٹرین کے سفر میں ایک آدمی جس کو سانپ نے ڈس لیا تھا اس کے ناک اور منہ سے خون جاری تھا اس نے کہا میرا نام یہ ہے اور میں فلاں جگہ کا رہنے والا ہوں میں نے اگلے اسٹیشن پر اتر جانا ہے یہ تجربہ کے طور پر بوٹی سانپ کاٹے کا علاج کیلئے رکھ لو۔ اگلے سٹیشن پر وہ اترگیا۔ چوتھے‘ پانچویں روز وہ ایک بھینس لے کر آگئے کہ یہ آپ کا انعام ہے۔ ہمارا آدمی بچ گیا ہے۔ بوٹی کا نام گوما تھا۔
پودا سونگھیں یادداشت بڑھائیں
: ایک پودا ہے اشوہ جسے انگلش میں Simlxکہتے ہیں میرے تجربے میں آیا ہے کہ اس سے میری یادداشت بہت بڑھ جاتی تھی۔ میں اس کے سائے میں بیٹھ کر پڑھتا تھا۔ موسم بہار میں جب اس پر بور آتا تو اس کی خوشبو سے عجیب کیفیت پیدا ہوتی تھی‘ اس سے طبیعت میں خوشی کا عنصر پیدا ہوتا تھا جوں جوں سونگھتا جاتا جتنا پڑھتا جاتا مجھے حفظ ہوتا جاتا۔ بعد میں جھنگ میں سیلاب آنے سے وہ ضائع ہوگیا۔ پھر بعد میں جب میں فیصل آباد میں لیکچرار ہوا تو میں نے اپنے پرنسپل سے کہا کہ یہ پودا کہیں سے بھی منگوا کر دیں۔ انہوں نے اسلام آباد سے منگوایا مگر جب تک اس کو پھول لگتے میری وہاں سے ٹرانسفر ہوگئی‘ دوسال قبل میں نے اپنے موجودہ سکول کیلئے اس کی جڑیں منگواکر لگوائیں اور اسمبلی میں بتادیا کہ یہ کس مقصد کیلئے ہے تووہ کوئی اکھاڑ کر لے گیا۔ میں تقریباً ستر صفحے ایک نشست میں حفظ کرلیتا تھا وہ بھی انگریزی کے۔ اس کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور اس کی خوشبو آتی رہتی تھی اور صرف ایک مرتبہ ہی پڑھنے پرمجھے حفظ ہوجاتا تھا۔یہ پودا پنجاب میں بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے سہارے کھڑا نہیں ہوسکتا اس کی شاخیں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اس کو سپورٹ دینی پڑتی ہے۔
چالیس مردوں کے برابر قوت: گوشت کا شوربہ بنائیں اور اس میں دلیہ پکائیں۔ یہ قوت کیلئے ہے۔ چالیس مردوں کے برابر طاقت ملتی ہے۔ جبرائیل امین علیہ السلام نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ بتایا تھا۔
| |
Monday, 14 April 2014
بلغمی کھانسی کیلئے مجرب نسخہ
| بلغمی کھانسی کیلئے مجرب نسخہ | |
ھوالشافی: گوند کتیرا ‘ گوند کیکر‘ اجوائن خراسانی‘ کاکٹراسنگی‘ شکرتیفال تمام پانچ گرام۔ خشخاش‘ رب السوس‘ مغز کدو‘ مغزچلغوزہ تمام دس گرام‘ مغز بادام میٹھا6گرام لیکر تمام چیزوں کو پیس کر125 گرام شہد میں ملا کر رکھیں دن میں چار مرتبہ ایک ایک چمچہ چاٹیں‘ انشاء اللہ بہت جلد فائدہ ہوگا۔ یہ نسخہ میں نے بہت سے لوگوں کو استعمال کروایا ہے۔ اللہ کے فضل سے سب کو فائدہ ہوا ہے۔ میرے اللہ نے ٹھیک کیا ہے۔ وہ لوگ بھی جو چند قدم نہیں چل سکتے تھے وہ بھی ٹھیک ہوگئے۔ ان کا سانس بھی ٹھیک ہوگیا۔بلغی کھانسی جیسی بھی ہو جتنی بھی پرانی کچھ عرصہ یہ نسخہ استعمال کریں اللہ کے فضل سے شفاء ملے گی۔ (حکیم سعید احمد‘ بہاولپور)
| |
Thursday, 27 February 2014
Friday, 30 August 2013
Thursday, 23 May 2013
قبض کشا وملین / سفوف ٹھنڈک برائے معدہ / پیلے یرقان کا نسخہ / گنج پن کا شرطیہ علاج
قبض کشا وملین
اجوائن دیسی5 تولہ، بابچی5 تولہ، رائی 5 تولہ، گندھک آملہ سار 5 تولہ ۔سب کو باریک کر کے سفوف تیار کریں۔
سفوف ٹھنڈک برائے معدہ
گوندکیکر 2 تولہ، رال سفید 2تولہ، گیرو 2 تولہ، آنبہ ہلدی 1 تولہ، سب کو باریک کر کے بڑے کیپسول بھرلیں۔
خوراک: 1 کیپسول دن میں تین مرتبہ ہمراہ ٹھنڈے دودھ کے ساتھ دیں۔ انشاءاللہ شفا ہوگی۔
پیلے یرقان کا نسخہ
گنے کا سرکہ1 پاﺅ، عرق سونف ½پاﺅ ، چینی ½ پاﺅ۔ سب کو بوتل میں ملا دیں اور چینی حل ہونے دیں ۔½ کپ دن میں تین بار لیں۔
گنج پن کا شرطیہ علاج
گندم 1 کلو لے کر اس کا پتال جنتر کے طریقے سے تیل نکال لیں۔
یعنی کنی میں سوراخ کر کے اوپر جالی ڈال کر اس کے اوپر دانے رکھ دیں سوراخوں کے نیچے پیالہ رکھیں اور سوتی کپڑے سے ڈھانپ کر گل حکمت کر کے آگ دیں۔
یہ تیل تقریباً 5 تولہ نکلے گا اب اس میں 5 تولہ تیل سرسوں ملا دیں۔ تیل
تیار ہے۔ گنج کرا کے پندرہ روز لگائیں پھر دوبارہ گنج کرا کے پندرہ روز تک
لگائیں۔
Wednesday, 22 May 2013
لہسن غذا بھی‘ دوا بھی‘ شفاءبھی
طب اسلامی کے ایک نامور طبیب نے لہسن کے بارے میں ایک بڑا اہم انکشاف یہ
کیا ہے کہ اس کی حرارت‘ حرارت غریزی کے مشابہ ہے۔ ایسی بہت سی نادر تحقیقات
ہماری قدیم طبی کتابوں میں موجود ہیں جن پر مزید تحقیق کی جانی چاہیے۔
تاریخ میں لہسن‘ گندم‘ پیاز‘ سبزی وغیرہ کا استعمال بطور غذا زمانہ قدیم سے ہونے کا ثبوت ملتا ہے‘ لہسن نہ صرف ہمارے مشرقی کھانوں کا اہم جزوہے بلکہ طب قدیم اور طب جدید دونوں ا س کے کثیر فوائد کے قائل ہیں۔ معدے اور مفاصل (جوڑوں) کی زائد رطوبات کو تحلیل کرنا اس کا کام ہے۔
تاریخ میں لہسن‘ گندم‘ پیاز‘ سبزی وغیرہ کا استعمال بطور غذا زمانہ قدیم سے ہونے کا ثبوت ملتا ہے‘ لہسن نہ صرف ہمارے مشرقی کھانوں کا اہم جزوہے بلکہ طب قدیم اور طب جدید دونوں ا س کے کثیر فوائد کے قائل ہیں۔ معدے اور مفاصل (جوڑوں) کی زائد رطوبات کو تحلیل کرنا اس کا کام ہے۔
لہسن فالج‘ لقوہ‘ نسیان‘ رعشہ‘ دمہ‘ قولنج ریحی اور ورم طحال کو دور کرتا
ہے۔ اس میں قوت تریاقیت یعنی زہریلے اثرات دور کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
زہریلے جانوروں کے کاٹے کا یہ علاج ہے۔ اس کے جوشاندے سے کلی کرنا دانتوں
کے درد میں مفید ہے۔ اس کا ضماد (لیپ) دنبل اور پھوڑوں کو پھاڑ کر بہاتا
اور مندمل کرتا ہے۔ بد ہضمی‘ کثرت ریاح دور کرنے کےلئے بے حد مفید ہے۔ لہسن
کو دھاگے میں پرو کر مریضوں کے گلے میں ڈالنے سے کئی امراض خاص طور پر دق
وسل ( ٹی بی) کے جراثیم ہلاک ہوتے ہیں۔ اگر لہسن کا ایک روزانہ کھایاجائے
اور پھر ہر روز ایک ایک کا اضافہ کرتے ہوئے چالیس دن تک جاری رکھا جائے تو
فالج کی تکلیف سے نجات ملتی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لہسن میں
سلفر(گندھک) کے بعض مرکبات اور کچھاﺅ تناﺅ دور کرنے والے جوہر بھی پائے
جاتے ہیں‘ اسی لئے لہسن بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) میں نہایت مفید
ہے۔
طبِ اسلامی کے ماہرین کی تحقیق پر نظر ڈالنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ چند اہم پہلوﺅں کا جائزہ لے لیا جائے تاکہ اس تحقیق کی اہمیت کا ہم اندازہ لگا سکیں۔ اطبائے قدیم و جدید اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری حیات کے تمام مظاہر‘ کردار‘ اعمال و افعال کی اصل قوتِ حیات ہے۔ ماہرین علاج بالمثل ( ہومیو پیتھی) تمام امراض اور خصوصاً پیچیدہ اور پرانے امراض کا اصل سبب اسی قوت کے فساد یا بگاڑ کو قرار دیتے ہیں۔ طب یونانی اسلامی کی اصطلاح میں یہ قوت‘ حرارتِ غریزی کہلاتی ہے۔ اس کے مقابل اصطلاح حرارت ِ غریبی کہلاتی ہے۔ غریب کے معنی عربی میں مسافر کے ہیں۔ گویا حرارت غریبی باہر سے کسی طرح آئی یا لائی ہوئی حرارت ہوتی ہے۔ انفیکشن کےلئے اس سے زیادہ صحیح لفظ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ اکثر بخار‘فلو‘ ملیریا وغیرہ جراثیمی امراض ہی تو ہیں جو کسی بیرونی ذریعے سے ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جب یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ ہماری حیات کی اصل حرارت غریزی ہے یہی ہماری صحت و ثبات کا مرکز ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس میں کوئی اضافہ کر سکتے ہیں؟ ماہرین نے اب تک اس میں اضافے کا کوئی فارمولا دریافت یا کسی غذائی دوا سے اس کی دریافت تک رسائی حاصل نہیں کی ہے۔ مگر بلا شبہ قدیم و جدید تحقیقات کے تحت تفکرات‘ بے جا غمِ فردا‘ اخلاقِ رذیلہ‘ شراب و کباب‘ تعیشاتِ شب سے اجتناب متوازن غذا‘ معتدل ورزش‘ اخلاق اس کی حفاظت کے بہترین ذرائع ہیں۔
کالی کھانسی:کالی کھانسی میں لہسن کے جوئے چھیل کر دھاگے میں پرو کر بچے کے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کی بو ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو کالی کھانسی کے مرض میں افاقہ ہوتا ہے۔
طبِ اسلامی کے ماہرین کی تحقیق پر نظر ڈالنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ چند اہم پہلوﺅں کا جائزہ لے لیا جائے تاکہ اس تحقیق کی اہمیت کا ہم اندازہ لگا سکیں۔ اطبائے قدیم و جدید اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری حیات کے تمام مظاہر‘ کردار‘ اعمال و افعال کی اصل قوتِ حیات ہے۔ ماہرین علاج بالمثل ( ہومیو پیتھی) تمام امراض اور خصوصاً پیچیدہ اور پرانے امراض کا اصل سبب اسی قوت کے فساد یا بگاڑ کو قرار دیتے ہیں۔ طب یونانی اسلامی کی اصطلاح میں یہ قوت‘ حرارتِ غریزی کہلاتی ہے۔ اس کے مقابل اصطلاح حرارت ِ غریبی کہلاتی ہے۔ غریب کے معنی عربی میں مسافر کے ہیں۔ گویا حرارت غریبی باہر سے کسی طرح آئی یا لائی ہوئی حرارت ہوتی ہے۔ انفیکشن کےلئے اس سے زیادہ صحیح لفظ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ اکثر بخار‘فلو‘ ملیریا وغیرہ جراثیمی امراض ہی تو ہیں جو کسی بیرونی ذریعے سے ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جب یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ ہماری حیات کی اصل حرارت غریزی ہے یہی ہماری صحت و ثبات کا مرکز ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس میں کوئی اضافہ کر سکتے ہیں؟ ماہرین نے اب تک اس میں اضافے کا کوئی فارمولا دریافت یا کسی غذائی دوا سے اس کی دریافت تک رسائی حاصل نہیں کی ہے۔ مگر بلا شبہ قدیم و جدید تحقیقات کے تحت تفکرات‘ بے جا غمِ فردا‘ اخلاقِ رذیلہ‘ شراب و کباب‘ تعیشاتِ شب سے اجتناب متوازن غذا‘ معتدل ورزش‘ اخلاق اس کی حفاظت کے بہترین ذرائع ہیں۔
کالی کھانسی:کالی کھانسی میں لہسن کے جوئے چھیل کر دھاگے میں پرو کر بچے کے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کی بو ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو کالی کھانسی کے مرض میں افاقہ ہوتا ہے۔
آدھے سر کا درد (درد شقیقہ): اگر آدھے سر کا درد ہو تو درد والی جانب لہسن
کو پیس کر لگانا مفید ہے۔پھوڑے پھنسیاں: پھوڑے پھنسی میں لہسن کا لیپ بے حد
فائدہ مند ہے۔ اگر کان میں پھنسی ہوگئی ہو تو لہسن کا پانی کان میں ٹپکا
لینے سے افاقہ ہوجاتا ہے۔ دانت میں درد: دانت کے درد میں لہسن کے جوئے کو
گرم کرکے دانتوں میں دبالیں‘ فوری فائدہ ہوگا۔
امراض قلب: لہسن قلب اور شریانوں پر بہت مفید اثر ڈالتا ہے۔ لہسن سے نہ صرف
بلڈپریشر کم ہوتا ہے بلکہ خون بھی پتلا ہوتا ہے اور شریانوں میں خون کے
ذرے جمنے کا یا Clot بننے کا خطرہ ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح امراض قلب سے
بچاو میں لہسن اہم کردار ادا کرتا ہے۔٭ہسٹریا‘ پیٹ کی خرابی: دودھ میں لہسن
ابال کر پینے سے ہسٹریا اور پیٹ کی خرابی کا مرض ختم ہوجاتا ہے۔٭ لہسن سے
بادی اور مرغن غذائیں زودہضم ہوجاتی ہیں اور خون ان کے زہریلے اثرات سے پاک
ہوجاتا ہے۔٭ لہسن کھانے سے بدن میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی
ہے جس کی وجہ سے دل اور دماغ روشن اور طاقت ور ہوجاتے ہیں۔٭ لہسن کے
استعمال سے Urine کے ذریعے زہریلے مادے جسم سے خارج ہونا شروع ہوجاتے ہیں
اور بلڈپریشر‘ مالیخولیا اور عصبی کمزوری اسکے استعمال سے دور ہوجاتی ہے۔
آلوبخارا کی کرامات اور کمالات (ڈاکٹر نوشابہ معین )
موسم گرما میں گرم اشیاءاور پھل جیسے آم وغیرہ بکثرت کھائے ہوں۔ یادیگر گرم
اور خشک اغذیہ بھی استعمال کی ہوں ان کی گرمی خشکی نیز صفرا اور خون کی
حدت کی وجہ سے جسم پر ہونے والی کھجلی اور خارش کیلئے خشک آلو بخاروں کا
زلال اور تازہ آلو بخاروں کا رس بہت نافع ہے
قدیم طبی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ازمنہ قدیم کے اطباءبھی آلو
بخارا میں موجود خصوصیات سے آشنا تھے۔ مشہور و معروف مسلم اطباءابن بیطار
نے جامع المفردات اور ابن ہبل نے کتاب المختارات میں آلو بخاراکے عربی نام
اجاص کے عنوان سے فوائد تحریر کیے ہیں۔ شیخ الرئیس بوعلی سینا‘ علامہ برہان
الدین نفیس اور ملاسدیدی نے بھی اپنی اپنی تصانیف میں آلو بخارا کے
استعمالات لکھے ہیں۔
سرد تر تاثیر کا حامل یہ پھل حقیقی طور پر ترش ہے مگر پختہ ہوکر جب اس کا
رنگ سیاہی مائل ہوجائے تو شیریں ہوجاتا ہے۔ اس کے پودے کشمیر‘ ہمالیہ‘
پاکستان‘ افغانستان اور ایران میں بکثرت پائے جاتے ہیں جبکہ اس کا اصلی
مسکن دمشق ہے۔
آلو بخارا پاکستان میں موسم گرما کے عوارضات اور حدت صفرا کیلئے بکثرت
کھایا جانے والا پھل ہے جس کی خصوصیات کے بارے میں تحریر کی گئی طبی کتب سے
اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت کاملہ نے صفراوی اور دموی امراض میں مبتلا افراد
کیلئے اسے مخصوص طور پر تخلیق فرمایا ہے۔ اس میں دوائی اور غذائی دونوں قسم
کی خصوصیات نمایاں ہیں۔ موسم گرما میں یہ تازہ اور خوش مزہ بازار میں عام
ملتا ہے اور جب موسمی لحاظ سے ناپید ہوتو خشک کیا ہوا آلو بخارا اس کی کمی
کو پورا کردیتا ہے۔ خشک آلو بخارا اکثر امراض کے علاج‘ قے‘ متلی‘ پیاس‘
بخار کی شدت‘ صفراءکی زیادتی‘ جوش خون اور قبض کیلئے مختلف تراکیب سے
استعمال کراتے ہیں۔ آلو بخارا کے ساتھ املی کا گودہ ملا کر اس کا زلال
پرانے بخاروں اور یرقان کی عمدہ اور خوش مزا ترش و شیریں ذائقہ کی حامل
موثر دوا ہے جس سے جسم میں قوت دافعہ کو تقویت حاصل ہوکر پیشاب و پاخانہ
بافراغت آکر طبیعت کو سکون حاصل ہوتا ہے اور مرض میں نمایاں تخفیف معلوم
ہوتی ہے۔ دس دانے تازہ اور شیریں آلو بخارا کے کھانے سے قبض دور ہوکر بخار
کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے اور بخار کے مریض کی پیاس و کمزوری اس میں
پائے جانے والے پانی اور لحمی اور شکری اجزاءسے دور ہوجاتی ہے۔ بخارکی شدت
میں اگر متلی اور قے بھی ہوپیاس کی بھی زیادتی ہوتو تازہ یا خشک آلو بخارا
لے کر منہ میں رکھ کر چوسیں فائدہ مند ہے۔
اس خوش ذائقہ پھل کے استعمال سے قلب کو تقویت ملتی ہے۔ قلب کی غیرطبعی
حرکات اختلاج اور خفقان میں فائدہ مند ہے۔ شریانوں میں جوش خون کی زیادتی
اور فشار الدم اعلیٰ میں اس کا استعمال نافع ہے کیونکہ یہ اپنی ملین تاثیر
کی وجہ سے شریانوں کو نرم کرتا اور مسکن ہونے کی وجہ سے جوش خون کو تسکین
بخشتا ہے۔ یہ خصوصی طور پر ان احباب کیلئے بہت زیادہ مفید ہے جنہوں نے موسم
گرما میں گرم اشیاءاور پھل جیسے آم وغیرہ بکثرت کھائے ہوں یادیگر گرم اور
خشک اغذیہ بھی استعمال کی ہوں ان کی گرمی خشکی نیز صفرا اور خون کی حدت کی
وجہ سے جسم پر ہونے والی کھجلی اور خارش کیلئے خشک آلو بخاروں کا زلال اور
تازہ آلو بخاروں کا رس بہت نافع ہے ۔ چنانچہ جگر کی گرمی کو دور کرکے اسے
تقویت بھی بخشتا ہے جب کہ بد ن کو طاقت‘ توانائی اور شادمانی و سرور کی
کیفیت سے بھی آشنا کرتا ہے۔
آلو بخارا کے پتوں کا چبانا مسوڑھوں کو مضبوط بناتا ہے اور اس کے رس کا
نگلنا دیدان امعاءکیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ ترش آلو بخارا قابض اور ذیابیطس
میں مفید ہوتا ہے۔ پختہ و شیریں آلو بخارا بخاروں کے علاوہمنہ کی بدبو‘
بواسیر اور کھانسی میں بھی مفید ہے۔ کیمیاوی تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم
اطباءاکرام جسمانی کمزوری اور بخاروں کی کمزوری کو رفع کرنے کیلئے آلو
بخارا اس لیے استعمال کرتے تھے کہ یہ جلد ہضم ہوجاتا ہے اور اس میں تمام
غذائی و معدنی اجزاءکے ساتھ پانی کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔ شیریں آلو
بخارا کا کثرت استعمال بھی معدہ اور امعاءکی ضروری حرارت کو ختم کرکے مضرت
پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ا ٓلو بخارا کھانسی میں مضر نہیں بشرطیکہ ترش
نہ ہو۔
Wednesday, 8 May 2013
شوگر کیلئے آسان گھریلو نسخہ
کیکرپھلی‘ برگ جامن‘ برگ آم‘ اسگندناگوری تمام اشیاء 300 گرام لیکر کر کوٹ چھان کر ایک چمچ صبح پانی کے ساتھ استعمال کریں اور رات کو سوتے وقت ایک چمچ پانی کیساتھ استعمال کریں۔مکمل پرہیز کیساتھ ایک ماہ استعمال کریں‘ پھر ایک ماہ بغیر پرہیز کیساتھ استعمال کریں‘ پھر ایک ماہ اور استعمال کریں۔ اس طرح کل تین ماہ استعمال کریں۔ فائدہ پہلے ماہ سے ہی شروع ہوجائے گا۔
Sunday, 28 April 2013
نزلہ زکام ہو یا ناک مسلسل بہہ رہی ہو
نزلہ
زکام ہو یا ناک مسلسل بہہ رہی ہو‘ طبیعت میں سستی ہو تو یہ نسخہ آزمائیں۔
انڈے کو توڑ کر ایک کپ میں ڈالیں ایک چھوٹا چمچ چینی کا ڈال کرمکس کرلیں‘
انڈا اور چینی جب مکس ہوجائے تو اسی کپ میں اوپر کھولتا ہوا دودھ ڈالیں اور
چمچ سے اچھی طرح ہلائیں۔ اگر دودھ پسند نہ آئے تو چائے بھی ڈال سکتے ہیں
اور گرما گرم چسکی چسکی کرکے نوش فرمائیں۔ تین دن ضرور استعمال کریں۔ انشاء
اللہ نزلہ بھاگ جائے گا گلے میں خرش ہے تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔
شیرخوار بچوں کی زبان آپ بھی سمجھیں
پست
آواز میں رونا کمزوری کی علامت ہے۔٭ آواز پھٹی ہوئی اور بیٹھی ہوئی ہو تو
سمجھنا چاہیے کہ امراض حنجرہ میں مبتلا ہے۔٭ اگر بچہ سرتکیہ پر ادھر ادھر
پھیرتا جائے یا ایک ہی طرف نظر جما کر دیکھتا رہے تو سمجھ لیں کہ دماغی سخت
مرض میں مبتلا ہے
شیرخوار
بچے بول نہیں سکتے اور نہ اپنی بات ماں کو سمجھا سکتے ہیں۔ وہ تکلیف میں
مبتلا بھی ہوتے ہیں لیکن اس کا اظہار زبان سے نہیں کرسکتے۔ لیکن تحقیق کے
ذریعے آنے والی نسلوں کو علم کے خزانے عطا کرنے والے قدیم اطباء نے مختلف
امراض اور تکالیف میں شیرخوار بچے کی حرکات و سکنات اور جسمانی علامات کو
نوٹ کرنے کے بعد ایسی رہنمائی عطاء کی ہے جو شیرخوار بچوں کے امراض کی
تشخیص میں اطباء کی اور مختلف تکالیف کو معلوم کرنے میں ماؤں کی مددگار ہے۔
ان حرکات و سکنات اور جسمانی علامات کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:۔
٭
بچہ دن بدن دبلا پتلا ہوتا جائے مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوجائے اور بے وجہ
روتا رہے تو سمجھ لیجئے کہ بچہ کی صحت اچھی نہیں ہے۔٭ ذات الریہ اور وجع
القلب ورم غلاف قلب میں بچہ کے چہرہ پر زیادہ گھبراہٹ اور انتشار کی علامات
پائی جاتی ہیں۔٭ آنکھوں کے اطراف سیاہ حلقے پڑجائیں اور آنکھیں اندر دھنسی
ہوئی معلوم ہوں بدن کی جلد نرم پڑجائے اور کان کی لوکو دبانے سے بچہ نہ
روئے تو سمجھ لیجئے کہ بچہ دق الاطفال میںمبتلا ہے۔
٭ چہرے کا رنگ زرد پڑجائے تو سمجھ لیجئے کہ بچہ یرقان میں مبتلا ہے۔٭ چہرے پربھربھراہٹ کا ہونا خرابی جگر کی علامت ہے۔٭ چہرے کا سیاہی مائل یا مٹیالہ ہوجانا ورم جگر یا ورم طحال یا مزمن حمی عفونتی کی علامت ہے۔
٭ کان کی طرف بار بار ہاتھ لیجانا امراض گوش کی علامت ہے۔٭ناک کی دیوار دب جانا جذام اور آتشک کی علامت ہے۔٭ جلد جلد سانس لیتے وقت ناک کے نتھنوں کا پھولنا‘ منہ کھول کر سانس لینا ذات الربہ کی علامت ہے۔
٭ بچہ دم بدم کھانستا جائے اور روتا بھی رہے تو درد پسلی کی علامت ہے۔٭ تالو کا پھولنا اور بخار کا مسلسل رہنا ورم دماغ کی علامت ہے۔٭ سر کا گول اور بہت بڑا ہونا اور ساتھ اس کے سر کے تمام نشیب و فراز کا ابھار پیشانی کا بڑا اور کشادہ ہونا استسقاء دماغی کی علامت ہے۔
٭ اگر بچہ تیسرے یا چوتھے مہینہ تک اپنی گردن سیدھی نہ کرسکے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کسی عصبی مرض میں مبتلا ہے۔
٭ بچہ بغیر آنسو کے روئے تو سمجھ لیں کہ کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہے۔٭ پست آواز میں رونا کمزوری کی علامت ہے۔٭ آواز پھٹی ہوئی اور بیٹھی ہوئی ہو تو سمجھنا چاہیے کہ امراض حنجرہ میں مبتلا ہے۔٭ اگر بچہ سرتکیہ پر ادھر ادھر پھیرتا جائے یا ایک ہی طرف نظر جما کر دیکھتا رہے تو سمجھ لیں کہ دماغی سخت مرض میں مبتلا ہے۔٭ بچہ کا نیند میں چونکنا یا سسکیاں لے کر رونا اور پیشانی پر شکن کا آجانا درد سینہ کی علامت ہے۔٭ اگر بچہ کسی عضو کو بار بار چھوتا ہو اگر اس مقام کو ہاتھ سے دبایا جائے تو رونے لگے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بچہ کے اس عضو میں درد ہے۔٭بچہ روتا رہے اور ضدی ہوجائے آنکھوں کے نیچے بل پڑجائیں تو یہ تصور کرنا چاہیے کہ درد سر میں مبتلا ہے۔٭اگر بچہ گھٹنے سکیڑ لے اور بھنویں چڑھائے اور رونے لگے تو سمجھنا چاہیے کہ درد شکم میں مبتلا ہے۔٭ بچہ کی زبان میلی اور اجابتیں بدبودار اور مائل بہ سیاہی یا خشک ہوں تو خلل شکم کی علامت ہے۔
٭ بچہ کے پیشاب میں سفید تلچھٹ بیٹھ جائے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا ہاضمہ خراب ہے۔٭اگر سرخ پیشاب آنا شروع ہوتو یہ تصور کرنا چاہیے کہ بخار آنے والا ہے۔
٭ بچہ نیند میں دانت پیسے اور ناک کھجائے اور نیند میں منہ سے رال بہے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے شکم میں کیڑے پیدا ہوگئے ہیں۔٭ اگر بچہ مقعد کو بار بار کھجلاتا رہے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ چنونے ہوگئے ہیں۔
٭ بچہ مٹھیاں بند کرلے اور ہاتھ پاؤں مارنے لگے اور آنکھیں چھت کو لگادے تو سمجھنا چاہیے کہ ام الصیان کا مرض لاحق ہوگیا۔
٭ بچہ فوراً بیہوش ہوجائے ہاتھ پاؤں مارنے لگے اور منہ سے کف نکلے تو یہ صرع الطفال کی علامت ہے۔
چند کارآمد نسخے
٭ پرال کا گھاس جلا کر رکھ لیں۔ بچوں کی زبان پر باریک باریک ثبور پیدا ہوتے ہیں جس سے بچوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ مذکورہ سفوف تمام دن میں چند مرتبہ لگایا جائے تو آرام ہوجاتا ہے۔٭ بچوں کے دانتوں کی جڑوں سے خون نکلتا ہو تو سوختہ پھٹکڑی بریاں‘ نمک لاہوری ہموزن باریک پیس کر لگانے سے خون بند ہوجاتا ہے۔
٭ ڈبہ اطفال اوررفع قبض کیلئے یہ گولیاںمفید ہیں۔مصبرزرد ایک تولہ‘ حب السلاطین مدبر ایک تولہ‘ عصارہ ریوند ایک تولہ‘ برگ سداب ایک تولہ‘ کتیرا ایک تولہ‘ باریک پیس کر گولیاں بقدر دانہ مونگ بنالیں۔٭ بچوں کو دانت نکلنے کے زمانہ میں جو غیرمعمولی اجابتیں آتی ہیں اس کیلئے یہ نسخہ خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے۔ دج ترکی سوختہ ایک تولہ‘ الائچی مسلم سوختہ ایک تولہ پیس کر کالی مرچ کے برابر گولیاں بناکر دن میں چار مرتبہ استعمال کرائیں۔
٭ بچوں کے اسہال دقے میں یہ دوا کارآمد ہے۔ کپور کچری ایک تولہ زہر مہرہ خطائی ایک تولہ۔ باریک پیس کر گولیاں بقدر دانہ مونگ بنالیں۔ تمام دن میں چند دفعہ استعمال کرائیں۔
٭ بچوں کے نفخ شکم و اصلاح معدہ کیلئے یہ حبوب کارآمد ہیں سنڈھ دو ماشہ‘ سہاگہ بریاں ایک ماشہ۔ گولیاں بقدر دانہ مونگ بنالیں۔بچوں کے غدود بڑھ جاتے ہیں اس کیلئے یہ ضماد مجرب ہے۔ گوند چھوہارہ تین ماشہ‘ مقل 3ماشہ‘ تخم مولی 3ماشہ‘ پیس کر آب برگ امل تاس میں پکا کر لگائیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)





.jpg)



